ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں تنظیم کی موبائل کلینک کے بعد پیر سے تنظیم فری کلینک کی شروعات؛ عوام علاج معالجہ کے لئے رجوع کریں، تنظیم جنرل سکریٹری کی اپیل

بھٹکل میں تنظیم کی موبائل کلینک کے بعد پیر سے تنظیم فری کلینک کی شروعات؛ عوام علاج معالجہ کے لئے رجوع کریں، تنظیم جنرل سکریٹری کی اپیل

Mon, 14 Jun 2021 14:44:20    S.O. News Service

بھٹکل  14 جون (ایس او نیوز)  قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی قیادت میں  آج پیر سے جالی روڈ پر  لائف کیئر کے بالمقابل  تنظیم فری کلینک کی شروعات کی گئی ہے جہاں دو ڈاکٹروں سمیت ایک نرس کی بھی خدمات فراہم کی گئی ہے۔

تنظیم جنرل سکریٹری مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی نے بتایا کہ    مانسون کی آمد کے ساتھ ہی  سردی، کھانسی اور بخار سمیت دیگر عام بیماریوں کے علاج کے لئے تنظیم کی طرف سے یہ فری کلینک شروع کی گئی ہے جہاں  پہنچ کر عوام  میڈیکل کی ان  خدمات سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر محمد  اُنیس اور ڈاکٹر محمد منصور علی کے ساتھ ساتھ ایک نرس بھی یہاں اپنی خدمات پیش کررہی ہے۔

آج پیر کو پہلے دن  صبح گیارہ بجے سے دوپہر ایک بجے کے درمیان 12 مریضوں نے اپنی جانچ کراتے ہوئے  علاج کرایا ہے، شام کو پانچ بجے سے سات بجے تک بھی سروس  دی جائے گی۔ یا د رہے کہ  اس کلینک کے بالمقابل لائف کئیر میں تنظیم کا کووڈ کئیر سینٹر بھی قائم ہے، جہاں کووڈ کے مریضوں کا علاج چل رہا ہے۔

تنظیم جنرل سکریٹری نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ تنظیم کی طرف سے دی جارہی تمام  خدمات کا عوام  فائدہ اُٹھائیں۔

یاد رہے کہ تنظیم دیگر اداروں کے تعاون سے بھٹکل سمیت اطراف کے علاقوں کے لئے ایک موبائل کلینک بھی چلارہی ہے ، جس کے تحت ایک ایمبولنس الگ الگ ایام میں الگ الگ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام الناس کے  گھروں میں پہنچ کر مفت علاج فراہم کررہی ہے۔  بھٹکل شہر کے مختلف حصوں میں اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد اب  یہ موبائل کلینک   دیہاتوں کا دورہ کررہی ہے۔

 بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدر عزیزالرحمن رکن الدین ندوی نے بتایا کہ  اب تک موڈ بھٹکل، مُٹھلی، منکولی،     ماون کوروے (بندر) ،   ہورلی سال،  سرپن کٹہ، رنگین کٹہ،  آسارکیری کے ساتھ ساتھ پڑوسی تعلقہ  ہوناور کے شراوتی بیلٹ کے کئی دیہاتوں کا بھی دورہ کرچکی ہے اور سینکڑوں مریضوں  کی جانچ کرتے ہوئے  علاج  تجویز کرچکی ہے، اب  تینگن گنڈی، جامعہ آباد ، مرڈیشور، منکی  اور سمسی کا دورہ کرنا باقی ہے۔


Share: